06:42 , 15 مئی 2026
Watch Live

پاکستان نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی، ٹرمپ کا دعویٰ

ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران امریکہ سے درخواست کی تھی کہ ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد سامنے آیا، جس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے میں مثبت کردار ادا کیا اور اس کی قیادت، بشمول فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم، نے امریکہ سے درخواست کی کہ مذاکرات کے دوران کسی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان شاندار رہا ہے”، اور اگرچہ ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، تاہم پاکستان کی درخواست پر مذاکرات کے دوران تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔

امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ بندی تاحال برقرار ہے، حالانکہ ایران نے مبینہ طور پر تین امریکی ڈسٹرائرز کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ان حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ فائرنگ کا آغاز امریکہ کی جانب سے کیا گیا۔

تازہ کشیدگی نے اس جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو آٹھ اپریل سے نافذ ہے اور جس کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائی کا خاتمہ ہوا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ گولہ باری کے باوجود امریکی بحریہ کے تین جدید ڈسٹرائرز بحفاظت آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب رہے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور متعدد چھوٹی کشتیوں کو تباہ کر دیا گیا، جنہیں ایران اپنی بحری صلاحیت کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم کے قریب فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جبکہ تہران اور بندر عباس کے اطراف میں دھماکوں اور دفاعی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں جاری نازک جنگ بندی کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION